گلبرگہ 14مارچ (ایس او نیوز/ راست) چار عظیم آئمہ جن کوبڑی شہرت حاصل ہوئی ان میں امام احمد بن حنبلؒ بھی ہیں جو 164 ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے ۔ ان خیالات کا اظہار بروز اتوار جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کی جانب سے ہدایت سنٹر میں منعقد کئے گئے اجتماع عام میں ’’حیات ، فکر، خدمات امام احمد بن حنبلؒ ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے جناب محمد مظہر الدین نے کیا۔ یاد رہے کہ ہدایت سنٹر میں ان چاروں اماموں کی زندگی پر ااظہارخیال پروگرام منعقد کیا جارہا ہے تاکہ ان کی زندگی اور دین کے سلسلے میں ان کا موقف واضح ہو کر سامنے آئے۔جناب محمد مظہر الدین نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ احمد بن حنبل بہت کم عمر میں اپنے والدین سے محروم ہو گئے۔ ان کی زندگی بہت ہی محنت و مشقت اور مشکلات سے گھری رہی۔ بچپن سے ہی ذہین ہونے کے ساتھ علم کے حصول کا اتنا شوق تھا کہ بہت ہی کم عمر میں ہی قران مجید کو حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم بغداد میں حاصل کرنے کے بعد کوفہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کوفہ میں یحیٰ بن آدم، عبد الرحمن بن احمد اور وکیع بن جراح جیسے آئمہ سے علم دین و حدیث حاصل کیا۔ آپ ؒ کے سلسلے میں امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں بغداد سے جب نکلا تو وہاں اپنے پیچھے احمدبن حنبل ؒ سے بڑا متقی اور فقیہ نہیں تھا۔ اسی طرح ایک عالم دین امام حنبل کے شوخ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ احمد دنیا تمہیں امام المسلمین کہہ کر پکارتی ہے تو اتنی مشقت کیوں کرتے ہو تو آپ نے کہا کہ جب تک میں قبر میں نہ پہنچوں قلم اور دوات کا ساتھ نہیں چھوڑونگا۔ اس شوخ علم نے آپ کو حجاز ، یمن، مصر، طرطوس کا سفرا کرایا جہاں سے وہ علم حدیث سیکھنے میں اور احادیث کو جمع کرنے میں معاون ثابت ہوا۔آپؒ کی پوری زندگی فقر و فاقہ سے گزری اس کے باوجود بھی کسی سے قرض لیکر لوٹائے بغیر نہیں رہتے۔ جب آپ کے دور میں فتنہ خلق قرآن زور پکڑا تو آپ کے اس موقف پر کہ قرآن مخلوق نہیں ہے، آپ ؒ کو وقت کے حکمرانوں کی اذیتوں کو جھیلنا پڑا۔ جناب مظہرا لدین نے کہا کہ امام احمد بن حنبل ؒ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ تمام مسائل کے سلسلے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے اور صحابہ کی زندگی کا نمونہ دیکھتے۔اور اس بات کو رد کرتے کہ اس کا ثبوت صحابہؓ اور تابعین کی زندگی میں نہیں ملتا۔ آپ نے ہر حال میں تقوی کی روش کو اختیار کیا یہاں تک کہ انکا ایک بیٹے کے مطبخ سے آئی ہوئی روٹی کو کھانے سے اس لئے انکار کیا تھا کہ ان کا وہ بیٹا اصفہان کا قاضی رہ چکا ہے۔
اجتماع کا آغاز مولانا مفتی محمد رکن الدین کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ قٰ کی آیات30-37 کی روشنی میں درس دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ ان آیات میں آخرت میں جہنم کی حولناکی اور جنت کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس دن جب جہنم بھر دی جائیگی تو پوچھے گی کہ کیا ابھی کچھ لوگ اس میں ڈالے جانے سے رہ گئے ہیں۔ آپ نے کہا قرآن مجید ہمیں ہمیشہ اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہے کہ جہاں دنیا کی نعمتوں کے لئے دعا کی جاتی ہے وہیں جہنم سے بچنے کے لئے بھی دعا کرنا چاہئے۔ آپ نے کہا کہ متقیوں کے لئے جنت کو ان کے قریب لائی جاتی ہے۔آپ نے کہا کہ متقی وہ ہے جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے، اس کے سامنے حاضر ہونے پر یقین کرتا ہے، اور اس کے اجرکے طلبگار ہوتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا کہ دراصل یہ وعدہ ہے اللہ کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ سے بار بار رجوع کرنے والا ہوتا ہے۔اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا۔ آپ نے کہا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کیا جو زیادہ طاقتور تھے اور دنیاپراُن کی حکومتیں قائم تھیں۔ اس لئے انسانوں کو ان واقعات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ عبد الرؤف ’’غنا ور موسیقی‘‘ عنوان پر درس حدیث اور سید تنویر ہاشمی نے حالات حاضرہ پر تنصرہ پیش کیا۔ امیر مقامی ذاکر حسین کے اعلانات و دعا کے ساتھ اجتماع اختتا م کو پہنچا۔